نئی دہلی، 8 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک میں چل رہے سیاسی ڈرامہ کی آنچ پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔پیر کو کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا میں اس مسئلے کو اٹھایا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر جم کر نشانہ لگایا۔اس دوران ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کانگریس پر ہی طنز کس دیا۔راج ناتھ نے کہا کہ استعفیٰ دینے کا سلسلہ راہل گاندھی نے ہی شروع کیا ہے، اب کرناٹک میں بھی ویسا ہی ہو رہا ہے۔بتا دیں کہ کرناٹک میں ابھرے بحران کے درمیان کانگریس کوٹے کے تمام وزراء نے اپنا استعفیٰ سونپ دیا ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہاہے کہ کرناٹک میں جو چل رہا ہے اس سے ہماری پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور لالچ دے کر آج تک ہم نے پارتی بدل کرانے کی کوشش نہیں کی ہے،پارلیمانی جمہوریت کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے ہم لوگ مصروف عمل ہیں۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ استعفیٰ کا سلسلہ ہم لوگوں نے تبدیل نہیں کیا، یہ سلسلہ کانگریس میں راہل گاندھی نے شروع کیا ہے اور وہی سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔دراصل لوک سبھا میں کانگریس کے ایم پی ادھیر رنجن چودھری نے بی جے پی پر کرناٹک میں کانگریس۔ جے ڈی ایس حکومت گرانے کا مسئلہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ممبران اسمبلی کو چارٹیڈ پلین سے لے کر گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو توڑنے کے لئے پارٹی بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لئے مرکزی حکومت سازش رچ رہی ہے۔چودھری نے کہا کہ یہ حکومت جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہی ہے اور آپ کی پارٹی (بی جے پی) کے لیڈروں کا اس میں ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کے 303ایم پی ہیں لیکن پھربھی پیٹ نہیں بھرا،ا ٓپ کاپیٹ اور کشمیری گیٹ برابر ہو گیا ہے